قومی اسمبلی کمیٹی نے ریلوے پنشنرز کے مسائل پر بحث کی، حکام نے مالی مشکلات اور اثاثہ جات کے مسائل کا انکشاف کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس رانا ارادت شریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں زیراعظم شکایات سیل نے پاکستان ریلویز کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کمیٹی رکن نعیمہ کشور نے کہ ریلوے اسٹیشنز پر مویشی پالے ہوئے ہیں اور ریلوے کے اپنے اثاثہ جات اونے پونے داموں لیز پر دئیے گئےہیں ۔ وزارت ریلوے کے پاس اربوں روپے کے اثاثہ جات پڑے ہیں مگر ریلوے کی زمین پر لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں۔
اجلاس میں کمیٹی کی رکن نعیمہ کشور نے سوال اٹھایا کہ جب بیوہ کی شادی ہو جائے تو کیا پنشن ماں یا باپ کو منتقل ہو سکتی ہے؟ جس پر حکام نے بتایا کہ بیوہ کی شادی کی صورت میں والدین پنشن کے حقدار ہو سکتے ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت ریلوے نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان ریلوے ریونیو کی کمی کے باعث پنشن دینے کے قابل نہیں رہا اور حکومت ہر سال گرانٹ دیتی ہے۔ پچھلے دس برسوں میں پنشن اخراجات میں 282 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزارت ریلوے کو پچھلے سال حکومت کی جانب سے 66 ارب روپے گرانٹ دی گئی۔
کمیٹی میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت خزانہ نے ریلوے کو اخراجات اور آمدنی کے فرق کو ختم کرنے کے لیے گرانٹ دی۔ حکام نے کہا کہ ریلوے کو اپنی مینجمنٹ اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔ کمیٹی کی رکن نعیمہ کشور نے ریلوے کے اثاثہ جات کی غلط فروخت اور قبضے کے مسائل کو اٹھایا۔
ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ ریلوے کے مسائل کا حل محکمہ کے خود حل کرنے میں ہے اور روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری پاکستان ریلوے کے زوال کی وجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پاکستان ریلوے پر 27 ارب روپے کا قرض ہے۔














