اسلام آباد ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کے کیس میں پالتو کتوں کی ضبطی کا انکشاف، عدالت نے متعلقہ افسران کو طلب کر لیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کو مارنے اور نسل کشی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں انکشاف ہوا کہ انتظامیہ نے پالتو کتوں کو بھی آوارہ سمجھ کر اٹھا لیا ہے۔ ایک متاثرہ شہری نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے کے اہلکار ان کے پالتو کتوں کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔
عدالت نے متعلقہ افسران کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر لیا۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ شہری کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈی جی انفورسمنٹ سی ڈی اے انعم فاطمہ اس کام کی نگرانی کر رہی ہیں۔
سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رضوان صاحب اب عہدے پر نہیں ہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ شہری کے کتے واپس مل جائیں گے۔ جسٹس سومرو نے مزید ریمارکس دیے کہ بچوں کا پالتو کتوں سے لگاؤ ہوتا ہے اور یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ کسی افسر سے پوچھا جائے کہ اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے اور متعلقہ افسران کو طلب کر کے سماعت میں وقفہ کر دیا۔














