ڈسٹرکٹ ولنریبلٹی انڈیکس رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 17 اضلاع بدترین حالت میں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اور سندھ کے کچھ اضلاع بھی کمزور ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈسٹرکٹ ولنریبلٹی انڈیکس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان کے 17 اضلاع بدترین حالت میں ہیں جبکہ پنجاب کے اضلاع میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ یہ رپورٹ برطانیہ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اور اس میں رہائش، کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ، روزگار، صحت، اور تعلیم سمیت چھ شعبے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے دو اور سندھ کے ایک ضلع کو انتہائی کمزور اضلاع میں شمار کیا گیا ہے۔ کمزور ترین اضلاع میں واشک، خضدار، کوہستان، ژوب، کوہلو، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، قلات، تھرپارکر اور جھل مگسی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وسائل پر صوبائی دارالحکومتوں کا کنٹرول ہے اور پسماندہ آبادی کا حصہ نہایت کم ہے۔ 7ویں این ایف سی کے تحت ملنے والے کھربوں روپے کے استعمال پر بڑا سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی کے مطابق بہتر کارکردگی والے اضلاع میں بھی نظام کی منظم کمزوریاں موجود ہیں۔ 20 انتہائی کمزور اضلاع میں تقریباً 1 کروڑ پاکستانی آباد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں 65 فیصد آبادی کچے گھروں میں رہتی ہے اور 50 فیصد کے پاس بیت الخلا نہیں ہے۔ بلوچستان میں 40 فیصد افراد کو صاف پانی میسر نہیں۔
ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی بھی کم ہے اور جنگ کے اثرات، آبادی میں تیزی اور موسمیاتی خطرات سے کمزور اضلاع مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔














