علیمہ خان کی گرفتاری اور چکری کے قریب رہائی کے بعد اڈیالہ روڈ پر دھرنا ختم ہوگیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کے بعد پولیس اور مظاہرین میں کشیدگی بڑھ گئی۔
راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر دھرنا دیا جو تقریباً ۱۰ گھنٹے جاری رہا۔ پولیس نے مظاہرین کے منتشر نہ ہونے پر کارروائی کی اور علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن مینا خان آفریدی کو بھی گرفتار کر لیا، جس کے بعد دھرنا ختم ہوگیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی نتیجہ نہ نکلنے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے دھرنے کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا۔ علیمہ خان نے پولیس کے احکامات کے باوجود راستہ خالی کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ دھرنا جاری رہے گا۔
عظمیٰ اور نورین خان کو پولیس تحویل میں لے کر چکری انٹرچینج کی طرف منتقل کیا گیا، جبکہ علیمہ خان اپنی گاڑی میں روانہ ہوئیں۔علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان کو پولیس نے چکری انٹرچینج پر رہا کردیا۔علیمہ خان دونوں بہنوں کے ہمراہ براستہ موٹروے لاہور روانہ ہوگئیں۔
علیمہ خان نے پولیس کارروائی کے بعد کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اصول فالو کیے، مگر ان کی بہنوں کے ساتھ درست سلوک نہیں کیا گیا۔
پولیس نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا۔ ادھر معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے پنجاب پولیس کے لاٹھی چارج کی مذمت کی اور کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور تشدد ریاستی طاقت کا خطرناک استعمال ہے۔














