بوسنیا میں انسانوں کے شکار کے انکشاف پر اٹلی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سرائیوو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اٹلی نے جرمنی، برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ملکوں کے سیاحوں کی جانب سے 1990 میں سرائیوو میں انسانوں کا شکار کرنے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ہولناک رپورٹ کے مطابق بوسنیائی سربوں نے اس "ہیومن سفاری” کے لیے 90 ہزار ڈالرز تک وصول کیے اور دور مار رائفل سے انسانوں کو نشانہ بنایا۔
اطالوی مصنف ایزیو گاوازینی نے بتایا کہ امیر سیاحوں نے بوسنیا کے شہر سرائیوو میں شہریوں کو نشانہ بنایا اور سربوں نے 90 ہزار ڈالرز فی کس وصول کیے، بچوں کو مارنے کے لیے اضافی رقم لی۔
چار سالہ محاصرے کے دوران سرائیوو میں 10 ہزار سے زائد شہری قتل ہوئے۔ گاوازینی نے 17 صفحات کی رپورٹ میلان کے اٹارنی جنرل آفس میں جمع کرائی ہے۔
اطالوی حکومت نے ان الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایزیو گاوازینی کا کہنا ہے کہ وہ بوسنیا کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں سمیت کئی لوگوں سے رابطے میں ہیں جنہوں نے اطالوی اسنائپر سیاحوں کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔
بوسنیا اور سربیا کے درمیان 1992 سے 1995 تک کی جنگ میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔















