پورٹ قاسم اتھارٹی نے 60 ارب روپے کا ٹھیکہ براہِ راست دینے کی کوشش کی، ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم سے مداخلت کی درخواست کی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے ڈریجنگ کا 60 ارب روپے کا ٹھیکہ براہِ راست دینے کی کوشش کی گئی، جس کے لئے مبینہ طور پر وزیراعظم کی جانب سے فوری احکامات کا جھوٹا جواز پیش کیا گیا۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر کو لکھے گئے خط میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی اور نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) نے بغیر کسی مسابقتی بولی کے ملک میں میری ٹائم ڈریجنگ کا سب سے بڑا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دینے کی تیاری کی، جو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) رولز کی خلاف ورزی ہے۔
شکایت کے مطابق، این ڈی ایم ایس، پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی اور نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کے تعاون سے قائم ہوا اور 200 ملین ڈالرز (ساٹھ ارب روپے) کا ٹھیکہ براہِ راست کنٹریکٹ بنیادوں پر دینے جا رہا تھا۔
ٹرانس پیرنسی نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر ڈریجنگ کا کام گزشتہ 17 سال سے زیر التوا ہے اور اس کے تخمینے میں اضافہ ہو کر 60 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ پی پی آر اے رولز کے استثنیٰ کی کوشش بظاہر میری ٹائم کے شعبے کا سب سے بڑا ٹھیکہ ایک مخصوص کمپنی کو دینے کا معاملہ ہے۔
ٹرانس پیرنسی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو ہدایت دیں کہ پی پی آر اے رولز کے مطابق اوپن انٹرنیشنل ٹینڈرز جاری کرے تاکہ مسابقتی لحاظ سے تعین کے نتیجے میں پروجیکٹ کی لاگت کم رہے۔














