یوٹیوب نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کی 700 سے زائد ویڈیوز حذف کیں، جو اسرائیلی جنگی جرائم کو دستاویز کرتی تھیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) یوٹیوب نے اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویزات کرنے والی 700 سے زائد ویڈیوز حذف کر دیں۔
گوگل کے اس پلیٹ فارم نے فلسطینی انسانی حقوق کی تین بڑی تنظیموں کے اکاؤنٹس بھی ختم کر دیے ہیں۔ یہ اقدام سابق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے بعد کیا گیا۔\n\nان تنظیموں میں الحق، المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس، اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق شامل ہیں، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کو شواہد فراہم کرتی رہی ہیں۔ ان کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے خلاف غزہ میں انسانی جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔\n\nیوٹیوب کے اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تنقید کی ہے۔ سینٹر فار کونسٹی ٹیوشنل رائٹس کی وکیل کیتھرین گیلاگر نے کہا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد کو چھپانے کا افسوسناک اقدام ہے۔\n\nیوٹیوب کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیوز متعلقہ پابندیوں پر عملدرآمد کے تحت حذف کی گئی ہیں۔ حالانکہ کچھ ویڈیوز دیگر پلیٹ فارمز پر اب بھی جزوی طور پر دستیاب ہیں، لیکن مکمل ریکارڈ موجود نہیں رہا۔













