جنونی شہد: ترکی اور نیپال کی پہاڑیوں کا نایاب قدرتی معجزہ

ترکی اور نیپال کے پہاڑوں میں پایا جانے والا ‘جنونی شہد’ قدرتی زہر کی وجہ سے بے ہوشی کا باعث بن سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

انقرہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ترکی اور نیپال کے پہاڑوں میں پایا جانے والا ‘جنونی شہد’ یا ‘دلی بال’ اپنی خاصیت کی بنا پر نایاب اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس شہد کو کھانے سے انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک خاص پھول روڈوڈینڈرون سے رس لیتا ہے، جس میں قدرتی زہر پایا جاتا ہے۔

یہ شہد ترکی کے بحیرۂ اسود کے جنگلات اور نیپال کے ہندوکش پہاڑوں میں تیار ہوتا ہے اور اس کا رنگ عام شہد سے گہرا اور سرخی مائل ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ کڑوا اور تیز ہوتا ہے جس سے گلے میں ہلکی جلن محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک چمچ یہ شہد ہلکا نشہ اور توانائی فراہم کرتا ہے، لیکن زیادہ مقدار میں کھانے سے چکر، لو بلڈ پریشر، بخار اور بے ہوشی ہو سکتی ہے۔

قدیم یونانی مورخ زینوفون کے مطابق، ایک مرتبہ یونانی فوج نے ترابزون میں یہ شہد کھایا اور سب پاگل یا بے ہوش ہو گئے۔ ترکی کے ‘مکھیوں کے گاؤں’ اریلی کویو میں شہد پالنے والے حسن کتلواتا کے مطابق، جنونی شہد کی پیداوار میں ان کا پورا خاندان شامل ہے اور اس کی خاصیت ان کے ماحول کی قدرتی صفائی ہے۔

یہ شہد صدیوں سے بلڈ پریشر کم کرنے اور طاقت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اسے ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نہ کھائیں کیونکہ یہ انسان کو پاگل بنا سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں