سیشن کورٹ لاہور میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جس میں عطاء اللہ تارڑ گواہ بنے، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے کیس کی سماعت کی، جہاں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے اور اپنا بیانِ حلفی جمع کرایا۔
عطاء اللہ تارڑ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف پر بے بنیاد الزامات عائد کیے، جن سے ان کی شہرت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس کے دوران رشوت کی پیشکش کے الزامات عوامی اجتماعات اور ٹی وی پروگرامز میں دہرائے، جو بدنیتی پر مبنی تھے۔
عدالت کے استفسار پر عطاء تارڑ نے شہباز شریف کی سیاسی کامیابیوں اور الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشنز بطور شواہد پیش کیے۔ عدالت نے بعض دستاویزات پر اعتراضات کے باوجود انہیں جمع کروانے کی اجازت دی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی غیر حاضری پر سماعت ملتوی کر دی گئی اور عطاء تارڑ کو 15 نومبر کو جرح کے لیے طلب کیا گیا۔
سماعت کے بعد عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پر مشاورت جاری ہے، جس کا مقصد عدلیہ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے 120 سماعتوں میں التواء لیا ہے، مگر اب یہ کیس حتمی مرحلے میں ہے اور ملک میں مہنگائی میں کمی آئی ہے، جبکہ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان ترقی کی راہ پر ہے۔













