پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے استعمال شدہ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت اجلاس میں استعمال شدہ اور سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی غیر قانونی کلیئرنس کا انکشاف ہوا۔ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اور کنوینر نے عدالت میں زیر التوا معاملات کے باعث مسائل کی نشاندہی کی۔
چیئرمین ایف بی آر نے وکیلوں کی بڑھتی فیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریفارمز کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ایف بی آر کی جانب سے درآمدی پالیسی آرڈر 2009 کی خلاف ورزی پر آڈٹ اعتراض اٹھایا گیا جس میں اسلام آباد اور ملتان کسٹمز کی جانب سے سیکنڈ ہینڈ آٹو پارٹس کی کلیئرنس کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ حکام نے کہا کہ درآمدی پالیسی کے تحت استعمال شدہ آٹو پارٹس کی درآمد پر پابندی تھی، لیکن ان کی کلیئرنس ریڈمپشن فائن کے ذریعے کی گئی۔ پی اے سی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر سے چار ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
پرال میں غیر مجاز پی سی ٹی ہیڈنگز کے اندراج سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ممبر پی اے سی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر حکام سے وضاحت طلب کی۔ ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ غفلت برتنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور پرال کو آزاد باڈی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔













