مشعال ملک نے کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر عالمی برادری کی خاموشی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے یاسین ملک کی رہائی کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر عالمی برادری کی خاموشی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسین ملک کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کی صحت تشویشناک ہے، ان کے میٹلک ہارٹ والو کی مدت ختم ہو چکی ہے اور فوری علاج ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کو موت کی چکی میں رکھا گیا ہے اور بیرونی رابطوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا نوٹس لیں اور پاکستانی و کشمیری قیادت سے عالمی ضمیر کو جگانے کی اپیل کی کہ یاسین ملک کی جان بچائی جائے۔
مشعال ملک نے اقوام متحدہ کے ٹارچر ریپیٹورز سے مداخلت کی درخواست کی اور کہا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے، انہوں نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست کو ہنگامی اپیل ارسال کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سپیشل ریپیٹورز برائے صحت، ٹارچر، اور انسانی حقوق فوری اقدام کریں، یاسین ملک کی طویل قید نے ان کی جسمانی و ذہنی حالت کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی خاموشی خطے کو ایٹمی تصادم کی دہلیز پر لا سکتی ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ یہ صرف ان کے شوہر کی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی جنگ ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھارت کی جیل پالیسی پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت معاہدے کا فریق ہے اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت اُس کی ذمہ داری ہے، جبکہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔













