کینیڈا نے بھارتی طلبہ کے ویزے مسترد کرتے ہوئے فراڈ کے خدشات ظاہر کیے

کینیڈا نے 2025 میں بھارتی طلبہ کی 74 فیصد اسٹڈی پرمٹ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فراڈ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اوٹاوا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کینیڈین حکومت نے اگست 2025 میں بھارتی طلبہ کی تقریباً 74 فیصد اسٹڈی پرمٹ درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ اقدام بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں پر سختی کے باعث ہے جس کا مقصد عارضی تارکین وطن کی تعداد میں کمی اور دھوکہ دہی کے معاملات پر قابو پانا ہے۔

کینیڈین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2025 میں بھارت سے موصول ہونے والی اسٹڈی پرمٹ درخواستوں میں سے تقریباً 74 فیصد مسترد کی گئیں، جبکہ اگست 2023 میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔ اسی عرصے میں مجموعی طور پر 40 فیصد اسٹڈی پرمٹ درخواستیں مسترد ہوئیں، جبکہ چین سے آنے والی درخواستوں میں سے 24 فیصد کو مسترد کیا گیا۔

بھارتی درخواست دہندگان کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، اگست 2023 میں یہ تعداد 20 ہزار 900 تھی جو اگست 2025 میں کم ہوکر صرف 4 ہزار 515 رہ گئی۔ بھارت گزشتہ ایک دہائی سے کینیڈا کے لیے غیر ملکی طلبہ کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، مگر اگست میں بھارت سے سب سے زیادہ اسٹڈی پرمٹ مسترد کیے گئے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور کینیڈا اپنے باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے 2023 میں الزام لگایا تھا کہ بھارتی حکومت برٹش کولمبیا کے شہر سَری میں ایک کینیڈین شہری کے قتل میں ملوث ہے، تاہم بھارت نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

دیگر متعلقہ خبریں