کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے فون پر آنے والی محض ایک ‘معذرت خواہانہ’ کال آپ کے بینک اکاؤنٹ کو چند سیکنڈز میں خالی کر سکتی ہے؟
تصور کریں، آپ اپنے گھر کے کاموں یا پڑھائی میں مصروف ہیں اور اچانک ایک کال آتی ہے۔ دوسری طرف سے ایک لرزتی ہوئی، پریشان آواز سنائی دیتی ہے، "باجی! غلطی سے آپ کے نمبر پر 33 ہزار روپے بھیج دیے ہیں۔ خدا کے لیے واپس کر دیں، یہ کسی کے علاج کے پیسے ہیں اور میں بہت غریب ہوں۔”

مروت اور ہمدردی ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں یہی ہمدردی اب ہمارا سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے؟
راولپنڈی کی ایک 22 سالہ یونیورسٹی طالبہ اقصیٰ (فرضی نام) کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس جدید فراڈ کی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ اسے نہ صرف کال کی گئی بلکہ اعتماد جیتنے کے لیے شناختی کارڈ کی کاپیاں اور رقم کی منتقلی کے جعلی اسکرین شاٹس بھی بھیجے گئے۔ دھوکہ دہی کا طریقہ اتنا منظم تھا کہ اسے یہ کہہ کر ایک ‘منظوری’ (Approval) کے عمل میں الجھایا گیا کہ چونکہ رقم سرکاری اسکیم کی ہے، اس لیے واپسی کا طریقہ تھوڑا مختلف ہے۔ جیسے ہی اس لڑکی نے ہمدردی میں آکر بٹن دبایا، اس کے اپنے اکاؤنٹ سے پیسے کٹنا شروع ہو گئے۔ خوش قسمتی سے، ‘اکاؤنٹ لیمٹ’ کی وجہ سے ٹرانزیکشن 25 ہزار پر رک گئی۔ ورنہ نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
اس واقعے کے بعد جب میں نے اقصیٰ سے بات کی تو اس کا کہنا تھا کہ،
"مجھے پیسوں کے جانے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا اس بات کا تھا کہ کسی کی مدد کرنے کی میری مخلصانہ کوشش کو میرے ہی خلاف ہتھیار بنا لیا گیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کا طریقہ اتنا مستند تھا کہ ایک لمحے کے لیے میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا۔”
مگر کیا یہ صرف اقصیٰ کی کہانی ہے؟
سال 2025 میں پاکستان بھر سے 126766 سائبر کرائم شکایات درج کی گئیں ۔ لیکن ان لاکھوں شکایات میں سے صرف 1,995 باقاعدہ مقدمات درج ہو سکے اور پورے ملک میں محض 33 مجرموں کو سزا مل سکی ۔ یہ ایک لاکھ سے زائد شکایات تو وہ ہیں جو ریکارڈ پر آ گئیں، ورنہ ماہرین اسے ‘آئس برگ کا صرف سرا’ قرار دیتے ہیں، یعنی اصل مسئلہ تو کہیں گہرا اور وسیع ہے جس تک قانون کے ہاتھ اب بھی نہیں پہنچ سکے کیونکہ ہم میں سے 65 فیصد متاثرین وہ ہیں جو بدنامی کے ڈر، گھریلو دباؤ یا اداروں پر عدم اعتماد کی وجہ سے اپنے کیس رپورٹ ہی نہیں کرتے۔
اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر خواتین ہی ان دھوکے بازوں کا آسان ہدف کیوں بنتی ہیں؟
مالیاتی فراڈ مرد و خواتین دونوں کو متاثر کرتا ہےلیکن اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔ ایک نوجوان مرد کو شاید صرف مالی نقصان ہو، لیکن ایک خاتون کے لیے یہ معاملہ بلیک میلنگ، ہراسمنٹ اور سماجی ساکھ کی تباہی تک جا سکتا ہے۔فراڈ کرنے والے ہماری نفسیات کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خواتین عموماً حساس ہوتی ہیں اور دوسروں کی مدد میں پہل کرتی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین مالی معاملات خود سنبھال رہی ہیں، مگر انہیں ڈیجیٹل سیکیورٹی کی وہ تربیت نہیں دی گئی جس کی آج ضرورت ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کو گھرداری تو سکھاتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں آن لائن ٹرانزیکشن کی احتیاط سکھاتے ہیں؟ ہم انہیں گلی کے موڑ پر کھڑے اجنبی سے بات نہ کرنے کی نصیحت تو کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے انہیں ‘ڈیجیٹل اجنبی’ کی پہچان اور جعلی ٹرانزیکشن کے خطرات بتائے ہیں؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں داخل تو ہو گئے ہیں، مگر اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر اب بھی پرانے دور میں جی رہے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ،
- غیر متوقع جذباتی کال یا پیغام پر فوراً فیصلہ نہ کریں۔
- کسی بھی مالی منظوری (Approval) سے پہلے دوہری تصدیق کریں۔
- اپنی ایپس، پاس ورڈز اور موبائل سیکیورٹی کو باقاعدگی سے اپڈیٹ رکھیں۔
- اسکرین شاٹس پر یقین مت کریں، ہمیشہ اپنی ایپ چیک کریں۔
- شناختی کارڈ، PIN یا OTP کسی سے شیئر نہ کریں۔
- مشکوک کال یا پیغام فوراً رپورٹ کریں۔
یاد رکھیں، آپ کی خاموشی مجرم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ راولپنڈی کی اس لڑکی کی کہانی ہمیں سبق دیتی ہے کہ آن لائن دنیا میں ہر ہمدردی سچی نہیں ہوتی اور ہر اسکرین شاٹ ثبوت نہیں ہوتا۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کیا ہم اگلا شکار بننے کا انتظار کریں گے یا خود کو اور اپنی اگلی نسل کو باخبر بنائیں گے۔




