عید پر چوڑیوں کی روایت، کلائی کی کھنک میں چھپی داستان

سندس قریشی

عید کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں رنگوں کا ایک نیا میلہ سج جاتا ہے۔ کپڑوں اور جوتوں کے ساتھ ساتھ چوڑیوں کی دکانیں بھی خریداروں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ اس سال خاص طور پر کشمیری چوڑیوں کا رجحان نمایاں طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مخملی کپڑے، باریک دھاگوں، موتیوں اور نگینوں سے مزین یہ چوڑیاں نوجوان لڑکیوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ایک نئے فیشن ٹرینڈ کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جین زی( Gen Z)  نسل، جسے اکثر روایتی چیزوں سے دور سمجھا جاتا ہے، ان چوڑیوں کو اپنے انداز میں اپناتی نظر آ رہی ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکیاں اپنے لباس کے رنگوں کے ساتھ چوڑیوں کا امتزاج پیش کر رہی ہیں اور یوں ایک پرانی روایت جدید فیشن کی نئی تعبیر بن کر سامنے آ رہی ہے۔

لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عید کی خوشیوں میں کھنکتی یہ چوڑیاں صرف ایک فیشن ٹرینڈ نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک تہذیبی داستان کا حصہ ہیں۔

چوڑی صرف شیشے کا ایک دائرہ نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں میں گھومتی ہوئی ایک ایسی روایت ہے جس میں محبت، خوشی اور یادوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔

بچپن کی خوشیوں بھری کھنک

چوڑیوں کی کہانی بچپن سے شروع ہو جاتی ہے۔ جب کوئی بچی پہلی بار چوڑیاں پہنتی ہے تو اس کے لیے وہ محض زیور نہیں ہوتیں بلکہ خوشی کا ایک چھوٹا سا میلہ بن جاتی ہیں۔ بازاروں میں سجی سبز، گلابی، سنہری اور نیلی چوڑیوں کی قطار دیکھ کر بچیوں کی آنکھوں میں جو چمک آتی ہے وہ کسی کھلونے سے کم نہیں ہوتی۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک بچی اس روایت سے متعارف ہوتی ہے جو آنے والے برسوں میں اس کی زندگی کا حصہ بننے والی ہوتی ہے۔

بچی چوڑیاں پہنے اپنے والد کو دکھا رہی ہے

محبت اور رومانس کی علامت

وقت کے ساتھ یہ معصوم کھیل جذبات کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی چوڑیاں صرف رنگ نہیں رہتیں بلکہ احساس بن جاتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں اپنے لباس کے مطابق چوڑیاں منتخب کرتی ہیں اور انہیں اپنے انداز کا حصہ بنا لیتی ہیں۔

برصغیر کی ثقافت میں چوڑیوں کو محبت کے اظہار سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اگر کسی لڑکی کو اس کے پسندیدہ شخص کی طرف سے چوڑیوں کا تحفہ مل جائے تو اس کی کھنک میں صرف شیشہ نہیں بجتا بلکہ ایک نرم سا جذبہ بھی بولنے لگتا ہے۔

چوڑیوں کی کھنک وہ زبان ہے جسے دل سمجھ لیتا ہے، چاہے لفظ ادا نہ بھی کیے جائیں۔

دلہن کی کلائی اور روایت کی تکمیل

چوڑیوں کی اہمیت شادی کے موقع پر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جب لڑکی دلہن بنتی ہے تو اس کی کلائیوں میں سجی چوڑیاں اس کی نئی زندگی، خوش بختی اور سہاگ کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ مہندی کی رسم پر پیلے رنگ کی چوڑیاں اور شادی کے دن سرخ چوڑیاں دلہن کے ہاتھوں کی زینت بنتی ہیں۔

برصغیر میں یہ تصور بھی عام ہے کہ سہاگن کی کلائی خالی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ چوڑیوں کی کھنک ہی گھر کی خوشیوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

موہنجو دڑو سے آج تک کی کہانی

برصغیر کی ثقافت میں چوڑیوں کی روایت صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق موہنجو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب میں تقریباً 2600 قبل مسیح کے دور سے چوڑیوں کے آثار ملتے ہیں۔ اس زمانے میں چوڑیاں مٹی، پتھر، گھونگوں اور ہڈیوں سے تیار کی جاتی تھیں اور بھٹیوں میں پکا کر مضبوط بنائی جاتی تھیں۔

کھدائی کے دوران ایسی مورتیاں بھی ملی ہیں جن کے ہاتھ چوڑیوں سے سجے ہوئے تھے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ زیور کے طور پر چوڑیوں کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے۔

فیروزآباد سے حیدرآباد تک چوڑی سازی کا سفر

وقت کے ساتھ چوڑی سازی کا ہنر مختلف علاقوں میں پھیلتا گیا۔ مغل دور میں شیشے کی باریک چوڑیوں کو خاص فروغ ملا اور فیروزآباد اس صنعت کا بڑا مرکز بن گیا۔

تقسیم ہند کے بعد چوڑی سازی سے وابستہ کئی کاریگر سندھ کے شہر حیدرآباد منتقل ہو گئے اور انہوں نے یہاں اس ہنر کو نئی زندگی دی۔

آج حیدرآباد پاکستان میں چوڑی سازی کی سب سے بڑی صنعت کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں ہزاروں خاندان اس پیشے سے وابستہ ہیں اور جہاں سے تیار ہونے والی چوڑیاں ملک بھر کے بازاروں تک پہنچتی ہیں۔

چوڑی سازوں کی خطرناک زندگیاں - Opinions - Dawn News Urdu

ایک چوڑی کیسے بنتی ہے؟

ایک سادہ سی چوڑی بنانے کے لیے دراصل درجنوں مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کا آغاز ٹوٹے ہوئے شیشے جمع کرنے سے ہوتا ہے۔ ان ٹکڑوں کو سوڈا ایش اور سلکا (Silica) ریت کے ساتھ ملا کر بھٹیوں میں ڈالا جاتا ہے جہاں انہیں تقریباً  1000 سے 1400 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے۔

پگھلا ہوا شیشہ لمبے لچھوں کی شکل اختیار کرتا ہے جنہیں بعد میں کاٹ کر چوڑیوں کی شکل میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صدائی، جڑائی اور مینا کاری جیسے مراحل کے ذریعے انہیں مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں سے سجایا جاتا ہے۔

حیدرآباد میں بڑی تعداد میں خواتین گھروں میں بیٹھ کر یہی نازک کام انجام دیتی ہیں اور یہی محنت آخرکار بازاروں میں سجی رنگین چوڑیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

چاند رات اور بازاروں میں رنگوں کا میلہ

رمضان کے آخری دنوں میں بازاروں کا منظر بدل جاتا ہے۔ چاند رات کو چوڑیوں کی خریداری ایک تہوار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ نوجوان لڑکیاں اپنے لباس کے ساتھ چوڑیاں میچ کرتی ہیں اور خوشی سے ایک دوسرے کو دکھاتی ہیں۔

برصغیر میں عید کی خوشی شاید اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کلائیوں میں چوڑیوں کی کھنک سنائی دیتی ہے۔

روایت جو صدیوں سے زندہ ہے

وقت بدلتا رہا اور فیشن بھی بدلتے رہے مگر چوڑیوں کی کھنک اپنی جگہ قائم ہے۔ ایک چھوٹی بچی کے لیے یہ رنگوں کا کھیل ہیں، ایک نوجوان لڑکی کے لیے محبت کی نشانی، جبکہ ایک شادی شدہ عورت کے لیے زندگی کی خوشیوں کی علامت۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی بازاروں میں رنگ برنگی چوڑیوں کی قطاریں سجی نظر آتی ہیں تو وہ صرف شیشے کے دائروں کی نمائش نہیں ہوتیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی داستان سناتی ہیں جو صدیوں سے عورت کی کلائی کے ساتھ سفر کر رہی ہے۔
کلائی پر سجی ایک چوڑی دراصل صدیوں پرانی تہذیب کا وہ چھوٹا سا دائرہ ہے جس میں وقت، محبت اور روایت ایک ساتھ سمٹ آتے ہیں۔

سندس قریشی کا تعلق حیدرآباد/کراچی، سندھ سے ہے۔ وہ میڈیا اور کمیونیکیشن کی گریجویٹ ہیں اور آج کل سافٹ ویئر کوالٹی اشورنس کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ انہیں ٹیکنالوجی، سماجی مسائل، ثقافت اور فیشن جیسے موضوعات پر لکھنا پسند ہے۔