بھنگیوں کی توپ سے امریکی بحری بیڑے تک

محمد اکمل خان

مال روڈ لاہور پر کھڑی بھنگیوں کی توپ صرف ایک تاریخی یادگار نہیں، طاقت کی کھلی ہوئی کتاب ہے۔ کبھی اسے شہر کے سامنے لا کر ایک ہی پیغام دیا جاتا تھا کہ پیسہ دو، ورنہ شہر اڑا دیا جائے گا۔ اور جب اہلِ شہر ہاتھ جوڑ کر کہتے کہ لٹنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا، تو جواب آتاکہ  پھر ہم تم پر حکومت کریں گے۔ یعنی لوٹ مار اور حکمرانی کے درمیان فاصلہ صرف اتنا تھا جتنا توپ کے دہانے اور شہر کی فصیل کے درمیان۔

یہ محض ایک پرانی توپ کی کہانی نہیں، طاقت کے اُس مزاج کی داستان ہے جو قانون سے نہیں، خوف سے راستہ بناتا ہے،   دلیل سے نہیں، دھمکی سے حکم چلاتا ہے؛ اور گفت و شنید سے نہیں، بارود کی نالی سے اپنا جواز پیدا ہے۔

دنیا بدل گئی، نقشے بدل گئے، سلطنتوں کے نام بدل گئے، مگر طاقت کا مزاج زیادہ نہیں بدلا۔ بھنگیوں کی وہ توپ بظاہر ماضی میں رہ گئی، لیکن اس کی روح آج بھی پوری شان سے زندہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب توپ پہیوں پر نہیں، سمندروں پر چلتی ہے۔ اب اسے گھوڑے نہیں کھینچتے، بلکہ ایٹمی آبدوزیں، طیارہ بردار جہاز، اسٹیلتھ بمبار اور کروز میزائل اسے آگے بڑھاتے ہیں۔

لاہور کے دروازے پر کھڑی توپ کی جگہ اب آبنائے ہرمز، بحیرۂ جنوبی چین، کیریبین اور قطبی پانیوں میں گھومتے فولادی بیڑوں نے لے لی ہے۔ نئی دنیا نے اس پرانی قوت کو نئے نام دے دیے ہیں،”فریڈم آف نیویگیشن“، ”قومی سلامتی“،  ”قواعد پر مبنی عالمی نظام“۔ مگر مطلب وہی پرانا ہے۔ سرتسلیم خم کر لو ، ورنہ کاٹ دیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پرانی منطق کو بس نئی زبان دی ہے۔ طاقت کا استعمال وہی ہے، صرف الفاظ بدل گئے ہیں۔ کبھی لوٹ مار کو فتوحات کہا جاتا تھا، آج اسے”قانون نافذ کرنے کی کارروائی“، ”سلامتی کی ضرورت“،  ”پری ایمپٹیو ایکشن“اور” علاقائی استحکام“ کہا جاتا ہے۔ گویا پہلے گولہ داغا جاتا ہے، پھر لغت لکھی جاتی ہے۔ اگر مال مل جائے تو خراج، اگر قبضہ ہو جائے تو نظم و نسق، اگر مزاحمت ہو تو بغاوت، اور اگر تباہی پھیل جائے تو اسے استحکام کی قیمت قرار دے دیا جاتا ہے۔

بھنگیوں کی توپ کا اصول بھی یہی تھا کہ پہلے دھمکی دو، پھر اپنی مرضی سے معنی طے کرو۔ جدید عالمی سیاست بھی کم و بیش اسی ڈھب پر چل رہی ہے۔ بڑی طاقتیں پہلے کارروائی کرتی ہیں، پھر اس کے لیے خوش نما الفاظ گھڑتی ہیں۔ کبھی”ٹارگٹڈ آپریشن“، کبھی ”محدود ردعمل“، کبھی”ریجیم چینج نہیں، صرف صلاحیت کم کرنا“، اور کبھی ” ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر جو ضروری ہوا کریں گے “۔ یہ جدید سلطنت کی لفاظی ہے، نہ پوری ہاں، نہ صاف ناں۔بس  تاثر ایسا رکھا جاتا کہ  ہر حملے کو دفاع کہا جا سکے۔

آج امریکی بحری بیڑا سمندر در سمندر یہی پیغام دے رہا ہے۔ راستہ کھلا رکھو، ہمارا ساتھ دو،  جنگ کاخرچ بانٹو، ورنہ نتائج کے لیے تیار رہو۔ اس نئی ڈاکٹرائن کا کمال یہ ہے کہ اپنی جنگ کو عالمی خدمت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اور اس کا بل دوسروں کو تھما دیا جاتا ہے۔ گویا راستہ بھی ہمارا، قانون بھی ہمارا، نگرانی بھی ہماری، مگر خرچ تمہارا۔

ٹرمپ کی اصل مہارت یہی ہے۔ وہ اپنے حلیفوں سے کہتا ہے کہ ہماری جنگ میں شریک بھی رہو اور اس کا مالی بوجھ بھی اٹھاؤ۔ لاہور کے باہر توپ نصب کرنے والے بھنگی سردار کم از کم اتنے بناوٹی نہ تھے۔ وہ سیدھا کہتے تھے، پیسہ دو، ورنہ شہر تباہ ہوگا۔ آج کی سپر پاور زیادہ نفیس زبان استعمال کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ  ہم تمہاری سلامتی کے لیے آئے ہیں، اس لیے اپنے وسائل، بندرگاہیں، منڈیاں، معدنیات اور خارجہ ترجیحات بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ کرو۔ یوں جبر کو تعاون، دباؤ کو شراکت، اور تابع داری کو اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کہا جاتا ہے۔

اور یہ مزاج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ جب اتحادی بھی اقتصادی دباؤ، ٹیرف کی دھمکیوں اور سیاسی زور زبردستی کو” بلیک میل “ اور ”کوئرشن “کہنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ توپ کا رخ صرف دشمن کی طرف نہیں رہا۔ دوست بھی اب نشانے کی زد میں ہیں۔ یہی سلطنت کا سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے: جب اس کے دشمن پہلے ہی خوف زدہ ہوں اور اس کے دوست بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگیں۔

ایران کے محاذ پر صورت حال نے اس ذہنیت کو اور ننگا کر دیا ہے۔ توانائی کے ڈھانچے پر حملے ہوں، بحری نگرانی میں اضافہ ہو، آبنائے ہرمز کے گرد عسکری سرگرمی بڑھے یا عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیلے، ہر طرف ایک ہی منطق دکھائی دیتی ہےکہ  پہلے آگ لگاؤ، پھر آگ بجھانے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں رکھو، اور آخر میں دنیا سے کہو کہ استحکام کی قیمت ادا کرو۔ جنگی طاقتوں کی یہ پرانی عادت ہے۔ آگ بھی وہی لگاتی ہیں، فائر بریگیڈ بھی وہی بنتی ہیں، اور بل بھی وہی وصول کرتی ہیں۔

لاہور پر بھنگی سرداروں کی حکمرانی بھی اسی نفسیات کی عکاس تھی۔ ریاست کمزور، خوف مضبوط۔ وسائل شہر سے لیے جاتے، اقتدار بندوق کے سائے میں چلتا، اور جبر کو انتظام کہا جاتا۔ آج کی سپر پاور بھی اکثر یہی کرتی ہے۔ فرق صرف آلات کا ہے۔ اُس وقت قلعہ لاہور، شہر کے دروازے اور توپ کا دہانہ تھا۔ آج سیٹلائٹ، ڈرون، کیریئر اسٹرائیک گروپ، پابندیاں، ڈالر نظام اور تزویراتی اتحاد ہیں۔ اُس وقت بارود سے شہر قابو میں آتا تھا، آج پابندی، بیڑا، میزائل، قرض اور سفارتی دباؤ مل کر وہی کام کرتے ہیں۔

ٹرمپ اس عہد کا شاید سب سے بڑبولا ترجمان ہے۔ وہ اُس زبان کو چھپاتا نہیں جسے دوسرے سفارتی آداب میں لپیٹ دیتے ہیں۔ دوسرے ممالک کےرہنماؤں کو اغوا کر لینا، اتحادیوں کو جنگی اخراجات یاد دلانا، تجارتی دباؤ کو مذاکرات کا نام دینا، اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ سب کچھ امن، قانون اور قومی مفاد کے لیے ہو رہا ہے ، یہ سب اسی پرانی توپ کی نئی گونج ہے۔ اس لیے بھنگیوں کی توپ اور امریکی بحری بیڑے کے درمیان مماثلت محض ادبی استعارہ نہیں، طاقت کے اُس مستقل مزاج کی نشانی ہے جو صدیوں سے صرف لباس بدلتا آیا ہے۔

تاریخ کا اصل سبق یہی ہے کہ توپ کبھی صرف دھات نہیں ہوتی، ذہنیت ہوتی ہے۔ جب کوئی قوت یہ سمجھنے لگے کہ اس کی طاقت ہی اخلاق ہے، اس کی دھمکی ہی دلیل ہے، اس کا بیڑا ہی قانون ہے، اور اس کی مرضی ہی عالمی نظم ہے، تو سمجھ لیجیے کہ مال روڈ لاہور پر کھڑی توپ نے صرف شکل بدلی ہے، فطرت نہیں۔

اور شاید سوال بھی اب وہی ہے، صرف پیمانہ بدل گیا ہے کہ کیا دنیا واقعی کسی عالمی نظام کے تحت چل رہی ہے، یا صرف ایک بہت بڑی توپ کے سائے میں کھڑی ہے  جس کا دہانہ جب تک ہماری طرف نہیں مڑا، ہمیں وہ قانون معلوم ہوتی رہے گی؟

نوٹ: یہاں”  بھنگی “ سے مراد بھنگ پینے والے لوگ نہیں، بلکہ اٹھارہویں صدی کی طاقتور بھنگی مثل کے سکھ سردار ہیں، جن کا پنجاب، خصوصاً لاہور، کی تاریخ میں اہم کردار رہا۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔