بیرون ملک عسکری کارروائی کرنے والے باغی ہوں گے۔افغان علماء کا اعلامیہ

کابل یونیورسٹی میں افغان علماء نے بیرون ملک عسکری کارروائیوں کو مسترد کر دیا، حکومت کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کابل: (رائیٹ ناوٴ نیوز) افغان علماء، مشائخ اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس کابل یونیورسٹی میں ہوا، جس میں انہوں نے بیرون ملک عسکری کارروائیوں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ اجلاس میں ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی اور متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ افغانستان کی حدود سے باہر عسکری کارروائیاں کرنے والے افراد کو ریاست کا باغی تصور کیا جائے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو اس کی ذمہ داری دی کہ وہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ علماء نے افغانستان کی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیرونی عسکری سرگرمیوں کو روکا جائے تاکہ ملک علاقائی تنازعات میں ملوث نہ ہو۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دے اور علاقائی امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

دیگر متعلقہ خبریں