خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد پی ٹی آئی رہنماوٴں نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے متعددسینئر رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کو خط لکھ کر صوبے میں انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی درخواست کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد متعدد حلقوں کے نتائج میں تبدیلی کے شواہد موجود ہیں، خاص طور پر قومی اسمبلی کے حلقہ این 18 ہری پور میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب میں دھاندلی نے معاملے کو واضح کردیا ہے۔
خط میں الزام عائد کیا گیا کہ انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے کئی حلقوں کے نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پشاور کے وہ صوبائی اسمبلی کے حلقے متاثر ہوئے جہاں امیدوار بھاری ووٹوں سے کامیاب تھے۔ ان حلقوں میں صوبائی حلقے 28 (شانگلہ)، 30 (شانگلہ)، 40 (مانسہرہ)، 72، 73، 74، 75، 78، 79، 80، 82 (پشاور)، 95 (کرم)، 101، 102 (بنوں) اور قومی اسمبلی کا حلقہ این اے28 پشاور شامل ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماوٴں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اسمبلی رول 237 کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت، اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ثبوت پیش کرنے کی اجازت ہو۔ پشاور میں مبینہ منظم دھاندلی کے واقعات کی تفصیل بھی فراہم کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماوٴں نے دعویٰ کیا کہ فارم 45 کے اصل نتائج موجود ہونے کے باوجود کنسولیڈیشن مراکز میں امیدواروں کو رسائی نہیں دی گئی اور اسکرینیں بند کر دی گئیں۔ ان کے مطابق کئی حلقوں میں فارم 45 دیر سے اپ لوڈ کیے گئے یا ان میں رد و بدل ہوا۔
خط پر دستخط کرنے والے رہنماوٴں میں محمود جان، علی زمان، ارباب جہانداد، ملک شہاب چمکنی، محمد عاصم خان، تیمور جھگڑا، حمیدالحق، کامران بنگش اور ساجد نواز شامل ہیں۔















