وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ گورنر راج کی ضرورت گورننس کی کمی پر ہوگی، معاشی استحکام کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ جب گورنر راج نافذ کیا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب حکومت اپنی کارکردگی میں ناکام ہو، خاص طور پر امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی صورت حال میں۔
تارڑ نے مزید کہا کہ عوام نے فوج مخالف بیانیہ کو مسترد کیا ہے، اور پشاور کے جلسے میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں سفارشات کا عمل ختم کر دیا گیا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 66 فیصد لوگوں نے کہا کہ کسی کام کے لیے رشوت نہیں دی گئی۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے تحت اصلاحات اور فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معاشی استحکام کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ حکومت ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔















