تشدد، گالیاں، تذلیل۔۔۔۔ڈکی بھائی پر حراست کے دوران کیا بیتی؟

ڈکی بھائی نے حراست کے دوران بدسلوکی اور تشدد کا الزام لگایا، یوٹیوبر نے سوشل میڈیا پر تفصیلات بیان کیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے رہائی کے بعد الزام عائد کیا ہے کہ دورانِ حراست انہیں بدسلوکی، گالی گلوچ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بیان اپنی سوشل میڈیا ویڈیو کے ذریعے جاری کیا جس میں گرفتاری کے ابتدائی لمحات اور تحقیقاتی کمرے میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل بیان کی۔

ڈکی بھائی نے بتایا کہ انہیں ہتھکڑی لگا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر کے کمرے میں لایا گیا جہاں پانچ افسران موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نے اُن سے سخت لہجے میں پوچھا کہ وہ کس جوا ایپلیکیشن کے کنٹری ہیڈ ہیں، جبکہ انہوں نے جواب دیا کہ وہ صرف یوٹیوبر ہیں اور کسی ایپ سے وابستہ نہیں۔ اس جواب پر افسر نے غصے میں آ کر گالی دی اور اُن سے پوچھا کہ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے۔

ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ افسر نے ان کی بات سننے کے بجائے اُن پر چیخنا شروع کر دیا اور کہا کہ وہ “وطن کے بچوں کو خراب کر رہے ہیں۔” جب انہوں نے وضاحت کی کہ وہ صرف ویڈیوز بناتے ہیں تو مبینہ طور پر افسر نے انہیں زور دار تھپڑ مارا۔ افسر بار بار چیختا رہا کہ “منہ اوپر کرو”، اور ہر بار منہ کرنے پر اُنہیں ایک اور تھپڑ مارا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ افسر مسلسل گالیاں دیتا رہا اور اتنے تھپڑ مارے کہ وہ گنتی تک بھول گئے۔ ان سے کہا گیا کہ ٹانگیں موڑ کر ہاتھ اوپر کریں۔ افسر نے پھر ایک کم عمر بچے سے ویڈیو کال پر بات کرائی۔ اس بچے سے پوچھا گیا کہ “ڈکی بھائی کو جانتے ہو؟”

واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ جُوئے کی ایپس کے ذریعے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔ لاہور ہائی کورٹ نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض انہیں 26 نومبر 2025 کو ضمانت پر رہا کیا۔ رہائی کے بعد وہ 100 دن تک خاموش رہے۔

دیگر متعلقہ خبریں