لاہور سیالکوٹ راولپنڈی موٹروے منصوبہ تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف طے

لاہور-راولپنڈی موٹروے منصوبہ مالی رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار، حکومت نے جلد تکمیل کا عزم کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور-سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی موٹروے منصوبہ مالی اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، حکومت نے اسے آئندہ اڑھائی سے تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا کہ 2022 کے بعد غیر معمولی مہنگائی اور KIBOR شرح سود میں اضافہ سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے (M-12) کے مالیاتی ماڈل کو متاثر کر گیا۔

عبدالعلیم خان کے مطابق، سیالکوٹ-کھاریاں سیکشن کا کام اکتوبر 2022 میں شروع ہوا تھا لیکن فروری 2024 میں رک گیا۔ نئی PC-I منظوری کے لیے ECNEC کو بھیج دی گئی ہے۔ کھاریاں-راولپنڈی سیکشن (M-13) کو 4 سے 6 لینز تک بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے اور بولی کا عمل جلد شروع ہو گا۔

لاہور۔سیالکوٹ موٹروے (M-11) مکمل طور پر فعال ہے اور اس کی مجموعی لمبائی 89 کلومیٹر ہے۔ یہ شاہراہ کالا شاہ کاکو سے شروع ہو کر سمبڑیال تک آپریشنل ہے، جبکہ اس پر کالا شاہ کاکو، مریدکے، نارووال، گوجرانوالہ، پسرور، ڈسکہ اور سمبڑیال سمیت سات اہم انٹرچینجز قائم ہیں۔ موٹروے میں دو سروس ایریاز، مساجد، ریسٹورنٹس، ٹرک ہوٹل، پارکنگ، ایگزیکٹو واش رومز اور کالا شاہ کاکو پر ٹراما سینٹر سمیت متعدد سہولیات موجود ہیں۔

سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے (M-12) کی لمبائی 69 کلومیٹر اور چوڑائی4 لین سے 6 لین میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ اس کے انٹرچینجز میں چنی گوندل، جلال پور جٹاں، پیرو شاہ، دولت نگر، سدھ، کھاریاں جنکشن، گلیانہ اور لنک روڈ (N-5) شامل ہیں۔ اکتوبر 2022 میں آغاز کے بعد منصوبے کا صرف 15 فیصد کام مکمل ہو سکا، جس کے بعد فروری 2024 سے تعمیر روک دی گئی۔ منصوبہ دوبارہ ڈیزائن کر کے نیا پی سی -1 منظور ی کیلئےایکنک کو بھجوا دیاگیاہے۔

کھاریاں۔راولپنڈی موٹروے (M-13) کو مکمل طور پر ری اسٹرکچر کر کے 6 لین کا کنٹرولڈ ایکسیس موٹروے بنا دیا گیا ہے۔ اس کی مجموعی لمبائی 117 کلومیٹر ہے اور اس میں دو بڑی سرنگیں (1300 میٹر اور 500 میٹر)، 40 کلومیٹر سروس روڈ، سروس ایریاز اور ریسٹ ایریاز شامل ہیں۔ منصوبے میں سرائے عالمگیر، جہلم، دینہ، سوہاوہ، گجر خان، مندرہ، بَنتھ/N-5 اور ٹی چوک سمیت آٹھ انٹرچینجز شامل ہیں، جبکہ نئےپی سی-1 کی منظوری کے بعد بولی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔

منصوبے کی تاخیر کی تین بڑی وجوہات ہیں: مہنگائی میں اضافہ، KIBOR شرح سود میں ریکارڈ اضافہ، اور مالیاتی ماڈل کا غیر مستحکم ہونا۔ حکومت نے تینوں سیکشنز کو جلد مکمل کرنے کا عزم کیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں