پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت بحران کا شکار، سینکڑوں ملز بند، کم قیمت درآمدات اور بلند ٹیکسز کی وجہ سے مسائل بڑھ گئے
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں ٹیکسٹائل صنعت بدترین اقتصادی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس کی وجہ غیر معمولی ٹیکس، خطے کی بلند ترین بجلی نرخ اور چین سمیت دیگر ممالک سے کم قیمت پر درآمد شدہ کپاس کے دھاگے اور کپڑے ہیں۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق، 100 سے زائد اسپننگ ملز اور 400 سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ ان بندشوں کے باعث خام کپاس کی خریداری میں زبردست کمی آئی ہے، جس سے ملکی کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے اور خوردنی تیل و ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر خطرہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں خام درآمدی دھاگے کی بھرمار نے مقامی اسپننگ صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کے بوجھ اور بجلی کے مہنگے نرخوں کی وجہ سے صنعت کو بحال کرنے کے بجائے اسے کچل دیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں خاندان بے روزگار ہو گئے ہیں۔
احسان الحق نے انکشاف کیا کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو کم قیمت پر درآمد ہونے والے دھاگے کی ماہانہ آمد کے بارے میں آگاہ کیا تھا، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دھاگے اور کپڑے پر کم از کم 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے، بجلی کے نرخ اور ٹیکس کم کیے جائیں تاکہ اسپننگ، جننگ اور ٹیکسٹائل یونٹس کو مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔














