شیری رحمان نے پاکستان کے گرین بلڈنگ کوڈز کو کمزور قرار دیتے ہوئے فلڈ ایریاز پر تعمیرات روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شیری رحمان نے پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ ایوارڈ 2025 کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے گرین بلڈنگ کوڈز ابھی بہت کمزور ہیں اورانہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور سیمنٹ فیکٹریاں آدھے سے زیادہ آلودگی پیدا کرتی ہیں۔
شیری رحمان نے غیر محفوظ جگہوں پر عمارتیں بنانے کے خطرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فلڈ ایریاز اور نالوں پر تعمیرات فوراً روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 کالام میں دریا کنارے ہوٹل گرنے کی ویڈیو سب نے دیکھی تھی اور 2025 میں وہی ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوتا دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہروں کا پھیلاؤ بہت تیز ہے اور آبادی کا بڑا حصہ شہری بن چکا ہے۔ بغیر منصوبہ بندی کے بستیوں کا شہر بن جانا ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد ہجرت کر کے شہروں میں آ رہی ہے۔
شیری رحمان نے تعمیرات میں فالتو خرچ کم کر کے چیزوں کو دوبارہ استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ شہروں کو محفوظ اور پائیدار بنانے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔















