ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے کے بعد روس نے 198 افراد کو واپس بلا لیا۔ روسی صدر پیوٹن کو صورتحال کی اطلاع دی گئی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد روس نے اپنے 198 افراد کو واپس بلا لیا ہے۔ روسی سرکاری جوہری کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ یہ انخلا بدترین حالات کے پیش نظر کیا گیا۔
حملے کے دوران پلانٹ کے اطراف پروجیکٹائل حملے ہوئے جس میں ایک ایرانی شہری جاں بحق ہوا۔ روسی کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس صورتحال کی اطلاع روسی صدر پیوٹن کو دی گئی ہے۔
روس کی جانب سے عملے کے انخلا کے باوجود بوشہر پلانٹ کی صورتحال کشیدہ ہے۔ حکام نے عوام کو مزید احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ حملہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جس کا اثر پورے خطے پر ہو سکتا ہے۔ ایران نے ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے خبردار کیا ہے۔
واضح رہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر یہ حملہ گزشتہ روز ہوا جس سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ امریکی ٹی وی کے مطابق امریکا کی ٹیکنالوجی اس حملے کا پیشگی پتہ لگانے میں ناکام رہی۔











