لاہور ہائیکورٹ کا فیئر ٹرائل کے حق پر اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پبلک انٹرسٹ کے نام پر کسی ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
لاہور ہائیکورٹ، فیئر ٹرائل کے حق پر اہم فیصلہ

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے کہا کہ پبلک انٹرسٹ کے نام پر کسی بھی ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے توہین مذہب کے مقدمے میں ملزمان کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کو شواہد سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کی جائیں۔

عدالت کے مطابق پولیس رپورٹ کے ساتھ منسلک تمام دستاویزات مقدمے کا حصہ ہوتی ہیں اور ملزمان کو ان تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ واٹس ایپ میسجز، فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد بھی ملزمان کو فراہم کیے جائیں گے۔

عدالت نے مزید کہا کہ شواہد تک رسائی کے بغیر منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں اور فیئر ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے۔ پبلک انٹرسٹ کے نام پر ہر دستاویز کو نہیں روکا جا سکتا۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔

دیگر متعلقہ خبریں