ایران نے امریکی ایف-35 طیارے کو انفراریڈ نظام سے نشانہ بنا کر حیران کر دیا۔ حملے کے بعد طیارے کو مشرق وسطیٰ میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران نے 19 مارچ کو امریکی جدید اسٹیلتھ جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ طیارہ لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ہے اور اسے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت دی گئی ہے۔
ایف-35 کو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اسے ریڈار کی نظر سے بچاتی ہے، لیکن ایران نے اسے حرارت کی شناخت (Heat-seeking) نظام سے نشانہ بنایا۔
ایران نے ریڈار کے بجائے انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم (IRST) استعمال کیا جو حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس نظام نے ایف-35 کے انجن کی شدید حرارت کو پکڑ لیا۔
یہ میزائل آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل ہے جو سست رفتاری سے اڑتا ہے اور حرارت محسوس کرتے ہی نشانہ بناتا ہے۔ اس کے باوجود ایف-35 کا پائلٹ ہنگامی لینڈنگ میں کامیاب رہا۔
واضح رہے کہ اس حملے کے بعد امریکی ایف-35 کو مشرق وسطیٰ کی ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ ایران کی حکمت عملی نے ثابت کیا کہ ریڈار کی بجائے انفراریڈ نظام بھی مؤثر ہو سکتا ہے۔















