ایران نے امریکا اور برطانیہ کے ڈیاگو گارشیا ایئربیس پر حملہ کیا، جس سے عالمی تنازع پیدا ہوا۔ یہ اڈہ بحرِ ہند میں فوجی کارروائیوں کے لیے اہم مرکز ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران نے 3600 کلومیٹر دوری پر واقع امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ ڈیاگو گارشیا ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے، جس سے عالمی سطح پر حیرت پیدا ہوئی ہے۔ بحرِ ہند کے وسط میں واقع یہ اڈہ عالمی فوجی آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ڈیاگو گارشیا جزائر چاگوس کا حصہ ہے، جو بحرِ ہند میں بھارت کے جنوبی کنارے سے دور واقع ہے اور یہ 1814 سے برطانوی کنٹرول میں ہے۔ یہ اسٹریٹجک مرکز مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے اہم ہے، جہاں 2,500 اہلکار تعینات ہیں، جن میں زیادہ تر امریکی فوجی شامل ہیں۔
یہ اڈہ ویتنام، عراق، افغانستان اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔ حالیہ حملے سے برطانیہ، امریکا اور ماریشس کے درمیان سیاسی تنازع مزید بھڑک اٹھا ہے، کیونکہ برطانیہ چاگوس کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اڈے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے۔ یہ اڈہ بحرِ ہند میں طاقت کے توازن کا اہم مرکز اور امریکی حکمت عملی کا کلیدی حصہ ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے قطری ٹیلی ویژن الجزیرہ سے سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران ڈیاگو گارشیا پر ہونے والے میزائل حملے کا ذمہ دار نہیں۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نہ تو اس حملے کے پیچھے ہے اور نہ ہی اس میں اس کا کوئی کردار ہے۔













