امریکہ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضے یا ناکہ بندی کے منصوبے پر غور کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے ایرانی جزیرہ خارگ پر قبضے یا ناکہ بندی کے منصوبے پر غور کر رہاہے۔ یہ جزیرہ ایرانی تیل کی معیشت کا اہم مرکز ہے اور سخت سیکیورٹی کے باعث ممنوعہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق، چار ذرائع نے بتایا ہے کہ خارگ امریکا کی حکمت عملی کا ہدف بن سکتا ہے۔ ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی پراسیسنگ اور برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے خارگ پر قبضے یا ساحلی علاقوں پر حملوں کے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے روکنے کے لیے امریکا مزید اقدامات کر سکتا ہے۔
خطرے کے پیش نظر، امریکا نے خطے میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرین یونٹس پہلے ہی روانہ ہو چکی ہیں۔













