ہمارے والدین کی نسل کا سب سے بڑا اور ڈراؤنا خواب ایک ہی جملہ تھا کہ ‘لوگ کیا کہیں گے؟‘ جبکہ آج کی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اچانک وائی فائی کا سگنل کیوں غائب ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ دو بالکل مختلف مسئلے لگتے ہیں، لیکن جب یہ دونوں ایک ہی گھر میں اکٹھے ہو جائیں تو اصل کامیڈی شروع ہوتی ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جو ٹاکسک آنٹیوں کو خاموشی سے واٹس ایپ پر میوٹ کر کے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے اور دل ہی دل میں “Delulu is the Solulu” کا منتر دہرا رہی ہوتی ہے، جبکہ گھر والوں کو اصل فکر یہ ہوتی ہے کہ اگر اس نے اسٹیٹس پر کوئی عجیب سی میم لگا دی تو سارا خاندان کیا سوچے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وہ “لوگ” بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ پہلے یہ لوگ محلے کی وہ خالہ ہوا کرتی تھیں جو دیوار کے اوپر سے جھانک کر دیکھتی تھیں کہ گھر میں کیا پک رہا ہے۔ لیکن ڈیجیٹل دور نے محلے کو بھی ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ اب کے “لوگ” انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے وہ خاموش ویورز ہیں جو ہماری ہر سٹوری دیکھتے ہیں اور پھر شام کو ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ہماری زندگی کے فیصلوں کا پورا پوسٹ مارٹم کر دیتے ہیں۔

اس پوسٹ مارٹم کا سب سے پسندیدہ موضوع ہمارا کیریئر ہوتا ہے۔ ہماری نسل نے روایتی راستوں سے تھوڑی سی بغاوت کر لی ہے۔ ہم 9 سے 5 کی روایتی سرکاری نوکری کے بجائے ڈیجیٹل جابز، ویب سائٹس، فری لانسنگ یا کسی نئے آن لائن پلیٹ فارم کے لیے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ڈرائنگ روم میں بیٹھے انکل کے لیے یہ سب اب بھی محض ‘ٹائم پاس’ ہے۔ ان کا ہمیشہ ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ “بیٹا کوئی پکی نوکری کیوں نہیں ڈھونڈتی؟ لوگ کیا کہیں گے کہ سارا دن لیپ ٹاپ پر انگلیاں مارنے کی تنخواہ ملتی ہے؟”

اب انہیں کون سمجھائے کہ اسکرینوں پر چلنے والی یہ دنیا ان کے روایتی دفتروں سے کہیں زیادہ محنت اور توجہ مانگتی ہے۔ اسی مسلسل دوڑ دھوپ کا نتیجہ وہ ‘برن آؤٹ’ ہے جس کا شکار آج کا ہر نوجوان ہے جو اپنی ڈگری کے آخری سال، انٹرن شپ اور نوکری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اگر آپ غلطی سے بھی گھر میں اس ذہنی تھکاوٹ یا مینٹل ہیلتھ کا ذکر کر دیں تو فوراً ایک روایتی فتویٰ سننے کو ملتا ہے کہ "یہ سب اس منحوس موبائل کا قصور ہے!”

ہم انہیں ورک لائف بیلنس سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ان کی نظر میں سب سے بڑی تھراپی صبح سویرے اٹھ کر واک کرنا اور ہر رشتہ دار کی شادی میں لازمی حاضری دینا ہے۔ کسی کیفے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ اور آدھی پی ہوئی کافی کی بلری تصویر لگانا ہمیں ایک خوبصورت ایستھیٹک فوٹو ڈمپ لگتا ہے۔
لیکن معاشرے کے پرفیکٹ معیار پر پورا اترنے والی ماؤں کو اس پر بھی اعتراض ہوتا ہے کہ “یہ کیسی جھوٹی پیالیوں اور کچرے کی تصویریں لگا رکھی ہیں؟ کوئی ڈھنگ کی تصویر لگاؤ، لوگ کیا کہیں گے کہ کیسی پھوہڑ لڑکی ہے!”
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تضادات کے بیچ جین زی (Gen Z) نے آہستہ آہستہ “لوگ کیا کہیں گے” نامی اس جن کو بوتل میں بند کرنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اپنے ذہنی سکون کو ترجیح دینا خود غرضی نہیں ہے۔ روایتی طعنوں کو اب ہم آسانی سے ‘ریڈ فلیگ’ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی باؤنڈریز سیٹ کر لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوگا۔ لوگ کل بھی کچھ کہتے تھے، آج بھی کہتے ہیں اور شاید کل بھی کہیں گے۔فرق صرف یہ آ رہا ہے کہ جین زی پہلی ایسی نسل ہے جو آہستہ آہستہ یہ سیکھ رہی ہے کہ ہر آواز کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
بعض اوقات سکون اسی میں ہوتا ہے کہ ہم "لوگ کیا کہیں گے” کے شور کو تھوڑا سا کم کر دیں اور اپنی آواز کو تھوڑا سا زیادہ سن لیں۔




