امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے "نو کوارٹر” بیان پر عالمی ردعمل۔ یہ اعلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ایران کے خلاف کارروائیوں میں "نو کوارٹر” کی پالیسی کے بیان پر قانونی ماہرین، امریکی قانون سازوں اور ایران نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
پینٹاگون بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائیوں میں "نو کوارٹر، دشمنوں کے لیے کوئی رحم نہیں” کی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔ "نو کوارٹر” کا مطلب ہے کہ دشمن کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود اسے قیدی نہ بنایا جائے بلکہ ہلاک کر دیا جائے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے مطابق دشمن کو "نو کوارٹر” دینے کا اعلان بین الاقوامی عرفی قانون میں طویل عرصے سے ممنوع ہے۔ 1907 کے ہیگ کنونشن اور جنیوا کنونشن کے تحت بھی اس طرح کا اعلان جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
امریکی سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ "نو کوارٹر” کا حکم قیدی نہ بنانے اور دشمن کو قتل کرنے کے مترادف ہے، جو مسلح تنازعات کے قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔ قانونی ماہر اونا ہیتھاوے اور دیگر ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات امریکی فوجیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ مخالف فریق بھی اسی طرز عمل اختیار کر سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "نو کوارٹر” کا اعلان طاقت نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن اور جنگی قوانین سے لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر دفاع کو مشورہ دیا کہ وہ ہیگ کنونشن اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹوٹ کا مطالعہ کریں۔ عراقچی نے مزید کہا کہ اگر ایسے بیانات واپس نہ لیے گئے تو اس سے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا تاثر پیدا ہوگا۔
When the U.S. Secretary of War declares “no quarter”, he doesn’t project strength. He conveys moral bankruptcy and ignorance about law of armed conflict. We advise him to review the Hague Convention and Rome Statute of the ICC, unless he aspires to join Netanyahu as war criminal.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 16, 2026
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔











