زکوٰۃ کی رقم سے اسپتال کو مشین دینے کی شرعی حیثیت

زکوٰۃ کی رقم سے مشینری خرید کر اسپتال کو براہِ راست دینا جائز نہیں، مگر مستحق کو مالک بنا کر ہبہ کی جا سکتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
زکوٰۃ کی رقم سے اسپتال کو مشین دینے کی شرعی حیثیت

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) زکوٰۃ کی رقم سے مشینری خرید کر اسپتال کو دینا براہِ راست جائز نہیں ہے کیونکہ اَئمۂ اَحناف کے نزدیک زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے، یعنی کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مالک بنانا ضروری ہے۔

رفاہِ عامہ کے کاموں میں جہاں تملیک نہیں ہوتی، زکوٰۃ کی رقم براہِ راست خرچ نہیں کی جا سکتی۔ اگر زکوٰۃ کی رقم سے خریدی گئی مشینری کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کی ملکیت میں دی جائے اور وہ اسے اسپتال کو ہبہ کردے، تو پھر بلا تفریق یہ مشینری زکوٰۃ کے مستحق مریضوں اور دیگر مریضوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر ایک شخص گردے کا مریض ہے اور اسے ڈائیلیسس مشین دی جائے، وہ مشین اسپتال کو ہبہ کر سکتا ہے تاکہ دیگر مریض بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یہی طریقہ کار ایکسرے، الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی اور دیگرٹیسٹنگ مشینوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں