آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش کا خدشہ، عالمی تجارت پر اثرات

ایران کے بعد حوثی باغیوں کی ممکنہ شمولیت سے باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ کی بندش کا خدشہ، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
باب المندب کی بندش کا خدشہ، عالمی تجارت پر اثرات

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ کے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ حوثی باغیوں کی ممکنہ شمولیت کے باعث خطرات بڑھ رہے ہیں کہ یہ آبی راستہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

حوثی قیادت کی جانب سے جاری بیانات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حوثی رہنما عبد الملک الحوثی نے کہا ہے کہ ان کی فورسز کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور اس راستے سے جہاز نہر سویز تک پہنچتے ہیں۔ اگر یہ بند ہو گیا تو جہازوں کو افریقہ کے جنوبی کیپ آف گڈ ہوپ سے سفر کرنا ہوگا، جس سے وقت اور لاگت میں اضافہ ہوگا۔

2023 میں اس راستے سے روزانہ 88 لاکھ بیرل تیل گزرتا رہا ہے۔ حوثی ماضی میں بھی یہاں حملے کر چکے ہیں، جس کے باعث شپنگ کمپنیوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ان دونوں راستوں سے دنیا کے سمندری تیل کا 30 فیصد گزرتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں