ایران کے خلاف جنگ پر امریکی ریپبلکن پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے پارٹی میں نظریاتی تقسیم واضح ہو گئی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے کئی بااثر رہنما جنگ کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری قرار دے رہی ہیں۔
ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات بھی کی تھی تاکہ انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھا جا سکے۔
سروے کے مطابق ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے۔
امریکا میں عموماً جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس بار ایران کے خلاف کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔












