جیفری ساکس: ایران جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا جارحانہ کردار

جیفری ساکس نے ایران جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو جارح قرار دیا، جوہری معاہدے کے بعد کشیدگی بڑھی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
جیفری ساکس: ایران جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا جارحانہ کردار

روم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) معروف امریکی ماہر معاشیات جیفری ساکس نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو جارح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جارحانہ کارروائی ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت درست نہیں۔

جیفری ساکس کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) میں واضح ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت استعمال نہیں کر سکتا۔ ایران پر حملوں کو خود دفاع قرار دینا غلط ہے کیونکہ یہ حملے جارحانہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے عالمی نظام کے لیے بھی امتحان ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی طاقتور ملک خود کو اقوام متحدہ کے قوانین سے بالاتر سمجھ سکتا ہے۔

جیفری ساکس نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو نقصان پہنچا۔ امریکہ نے سفارتی راستہ چھوڑ دیا اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے اعتماد کمزور ہوا۔

انہوں نے تاریخی جڑوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1953 میں امریکہ نے ایران کے وزیر اعظم کا تختہ الٹا اور 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں عراق کی حمایت کی۔ 2015 کا جوہری معاہدہ مؤثر تھا مگر امریکہ کے نکلنے سے کشیدگی بڑھی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگ عالمی سطح پر خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ اگر کشیدگی بڑھتی رہی تو یہ بڑے عالمی تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں