ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر فوجی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے اثرات کا غلط اندازہ لگایا، جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ پینٹاگون اور نیشنل سکیورٹی کونسل نے ایران کے ردعمل کو کم اہمیت دی، جس سے عالمی توانائی منڈی اور جہاز رانی متاثر ہوئی۔
خزانہ اور توانائی کے حکام کی موجودگی کے باوجود بین الادارہ جاتی معاشی تجزیہ فیصلہ سازی کا حصہ نہ بن سکا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے معاملات میں محدود مشیروں پر انحصار کیا، جس سے معاشی خطرات پر مکمل بحث نہیں ہوئی۔
توانائی اور جہاز رانی کے حلقوں نے امریکی بحریہ سے عسکری تحفظ مانگا، مگر فوری سہولت ممکن نہ ہو سکی۔ ایرانی خطرات کے باعث بحری حفاظت مشکل جبکہ امریکی وزیر توانائی نے کہا کہ بحری نگرانی بعد میں ممکن ہوگی، مگر فوجی وسائل ایران کی صلاحیت کم کرنے پر مرکوز ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایرانی اقدام کے لیے تیار تھی۔ پریس سیکریٹری نے کہا کہ صدر کو مکمل بریفنگ دی گئی تھی جبکہ وزیر دفاع نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ انتظامیہ نے توانائی بحران کے حل کے لیے کچھ پابندیاں نرم کرنے پر غور شروع کیا ہے۔
ایران کی نئی قیادت کی جانب سے آبنائے ہرمز بند رکھنے کے عندیے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی اور امریکی پالیسی پر سوالات بڑھ گئے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ خلیجی تیل کی ترسیل میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔














