مسلمان ممالک نے رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کی بندش پر اسرائیل کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گزاروں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
یروشلم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر نے اسرائیل کی جانب سے یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام خاص طور پر رمضان کے دوران عبادت گزاروں کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر میں سکیورٹی پابندیاں اور امتیازی اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یروشلم یا اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔
🔊PR No.6️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement on Closure of the Gates of Al-Aqsa Mosque/Al-Haram Al-Sharif by Israeli Occupation Authorities pic.twitter.com/diagC5MSPi
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) March 11, 2026
اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظامی امور اردن کی وزارت اوقاف کے تحت یروشلم اوقاف کونسل کے پاس ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولنے اور یروشلم میں عبادت گزاروں پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔












