ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خلیج فارس میں تجارتی جہازوں پر حملے بڑھ گئے، 28 فروری سے اب تک 13 جہاز متاثر ہوئے۔
خلیج فارس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 28 فروری سے جاری ان حملوں میں اب تک کم از کم 13 جہاز متاثر ہو چکے ہیں۔
مارشل آئی لینڈ کے پرچم والے خام تیل بردار جہاز ایم کے ڈی ویوم پر یکم مارچ کو عمان کے ساحل کے قریب حملہ ہوا، جس میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔ اسی روز جبرالٹر کے پرچم والے فیول ٹینکر ہرکیولیس اسٹار اور پلاؤ کے پرچم والے ٹینکر اسکائی لائٹ کو بھی آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا۔
2 مارچ کو بحرین کی بندرگاہ میں امریکی پرچم والے آئل ٹینکر اسٹینا امپیریٹو پر دو پروجیکٹائل حملے ہوئے، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو نکالنا پڑا۔ 3 مارچ کو فجیرہ کے قریب مارشل آئی لینڈ کے ٹینکر لبرا ٹریڈر اور پاناما کے بلک کیریئر گولڈ اوک کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔
4 مارچ کو مالٹا کے پرچم والے کنٹینر جہاز سفین پریسٹیج پر حملہ ہوا، جس سے انجن روم میں آگ لگ گئی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔ 5 مارچ کو عراق کی بندرگاہ خور الزبیر کے قریب خام تیل بردار جہاز سونانگول نامیبے دھماکے سے متاثر ہوا جبکہ 6 مارچ کو اسی علاقے میں ایک ٹگ بوٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
7 مارچ کو سعودی عرب کے شہر جبیل کے قریب ڈرون حملے کی اطلاع ملی جبکہ 11 مارچ کو تین مزید جہاز نشانہ بنے جن میں تھائی لینڈ کے پرچم والا بلک کیریئر مایوری ناری، جاپان کا کنٹینر جہاز ون میجسٹی اور مارشل آئی لینڈ کا بلک کیریئر اسٹار گوینتھ شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے دوران اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔











