ایرانی حملوں میں امریکی دفاعی نظام کو شدید نقصان، واشنگٹن جنوبی کوریا سے تھاڈ میزائل مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر مجبور

ایران کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر اہم تنصیبات متاثر ہوئیں، جن میں کویت، بحرین، امارات، قطر، اردن اور سعودی عرب شامل ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایرانی حملوں میں امریکی دفاعی نظام کو شدید نقصان، واشنگٹن جنوبی کوریا سے تھاڈ میزائل مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر مجبور

واشنگٹن/دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مشرق وسطیٰ میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکی فوجی تنصیبات اور دفاعی نظام کو پہنچنے والے نقصانات نے واشنگٹن کو اپنی فضائی دفاعی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ جنوبی کوریا میں تعینات تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے اخبار ڈونگ آ اِلبو کے مطابق تھاڈ نظام کے انٹرسیپٹر میزائل شمالی گیونگ سانگ صوبے کے سیونگجو سے اوسَن ایئر بیس منتقل کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کو میزائل نظام کو مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تعینات کرنے کی تیاری سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں میں کئی ممالک میں امریکی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایک درجن سے زائد عمارتوں اور طیارہ پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا جبکہ کیمپ عریفجان میں 6 سیٹلائٹ کمیونیکیشن ریڈوم تباہ ہو گئے۔ شعیبہ بندرگاہ کے قریب ایک امریکی عارضی کمانڈ سینٹر پر ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ کے جفیر علاقے میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ کے سروس سینٹر پر میزائل حملے سے ریڈار ڈوم، گودام اور کمیونیکیشن ٹرمینلز متاثر ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس پر بھی حملوں کے نتیجے میں سیٹلائٹ نظام اور ریڈار آلات کو نقصان پہنچا جبکہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

قطر میں العدید ایئر بیس پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے ہوئے جہاں بعض رپورٹس کے مطابق طویل فاصلے تک کام کرنے والا ابتدائی وارننگ ریڈار نظام متاثر ہوا۔ اس ریڈار کی مالیت تقریباً 1.1 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور یہ امریکی میزائل دفاعی نظام کا اہم حصہ ہے۔

اردن کے موافق السطی ایئر بیس پر ایک حملے میں تھاڈ میزائل نظام کا اے این ٹی پی وائی 2 ریڈار تباہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے ریڈار کی تباہی بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور دفاعی ردعمل کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے دوران ایران نے خلیجی ممالک میں واقع متعدد امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق انہی نقصانات کے بعد امریکہ خطے میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل نظام منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں