اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں خفیہ فنڈز کے 10 کروڑ 14 لاکھ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ پیش نہ ہونے پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس شاہدہ گل کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارتِ اطلاعات کے 10 کروڑ 14 لاکھ روپے کے خفیہ اخراجات کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے ان اخراجات پر سنگین سوالات اٹھائے اور آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ فراہم نہ کرنے کو غیر آئینی قرار دیا۔
اجلاس میں بلال مندوخیل نے عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور ریٹائرڈ سیکرٹری اطلاعات کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کمیٹی نے آڈیٹر جنرل کو مکمل سرکاری ریکارڈ تک رسائی دینے کی آئینی ہدایت کی یاد دہانی بھی کروائی۔
بتایا گیا کہ خصوصی تشہیری فنڈ اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے لیے بھاری رقم خرچ کی گئی، مگر آڈٹ حکام کو واؤچرز اور بینک ریکارڈ فراہم نہیں کیے گئے۔ کمیٹی نے افسران کو آڈٹ ریکارڈ فراہم کرنے کا پابند قرار دیا اور خلاف ورزی پر کارروائی کی تنبیہ کی۔
آڈٹ اعتراض میں انکشاف ہوا کہ ایک اشتہاری کمپنی کو بینظیر کے نام پر 5 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی، جس پر مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گانا ہٹ ہوا۔ کمیٹی نے تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔















