آبنائے ہرمز میں جنگی خطرات کی انشورنس کوریج منسوخ ہونے سے جہاز رانی متاثر، عالمی توانائی منڈیوں میں بحران اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ۔
لندن/دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی بحری انشورنس کمپنیوں کی جانب سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جنگی خطرات کی کوریج منسوخ کیے جانے کے بعد خطے میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کسی سمندری گزرگاہ کی بندش براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے مالیاتی اور انشورنس نظام کے فیصلوں سے ہوئی ہے۔
5 مارچ کو عالمی میری ٹائم انشورنس کے سات بڑے اداروں نے خلیج فارس، خلیج عمان اور ایرانی پانیوں میں جنگی خطرات کی کوریج ختم کرنے کے نوٹس جاری کیے۔ ان اداروں میں گارڈ، نارتھ اسٹینڈرڈ، اسکُلڈ، اسٹیم شپ میوچل، امریکن کلب، سویڈش کلب اور لندن پی اینڈ آئی کلب شامل ہیں۔ یہ ادارے مجموعی طور پر دنیا کے تقریباً 90 فیصد بحری جہازوں کو انشورنس فراہم کرتے ہیں، اس لیے کوریج ختم ہونے کے بعد بیشتر جہاز مالکان نے علاقے میں سفر روک دیا۔
میرین ٹریفک اور دیگر بحری ڈیٹا کے مطابق بحران سے پہلے روزانہ اوسطاً 138 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم انشورنس منسوخی کے بعد یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک رہ گئی۔ اطلاعات کے مطابق خلیج عمان میں تقریباً 300 تیل بردار جہاز لنگر انداز ہیں جبکہ خلیج فارس کے اندر تقریباً 1000 تجارتی جہاز پھنس گئے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 25 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت جو فروری کے آخر میں تقریباً 67 ڈالر فی بیرل تھی، ایک ہفتے کے اندر بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی اور 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ چار دہائیوں میں تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑے ہفتہ وار اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور دنیا کی مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش کے بعد مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ متبادل پائپ لائنوں کی مجموعی گنجائش اس مقدار کا صرف ایک محدود حصہ ہی سنبھال سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ماہرین اس بحران کو صرف عسکری کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اور انشورنس نظام کے ردعمل کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک بحری انشورنس کمپنیوں اور ری انشورنس اداروں کو خطے میں خطرات کم ہونے کا یقین نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی معمول کی آمدورفت بحال ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔












