خلف الحبتور نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر کھلا خط لکھا، خطے کو خطرے میں ڈالنے پر سوال اٹھائے۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) متحدہ عرب امارات کے معروف کاروباری شخصیت خلف احمد الحبتور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ الحبتور نے اپنے خط میں پوچھا کہ خلیجی ممالک کو جنگ میں دھکیلنے کا اختیار ٹرمپ کو کس نے دیا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے خط میں الحبتور نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے سے خلیجی ممالک براہ راست خطرے میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ فیصلہ صرف ٹرمپ کا تھا یا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے دباؤ کا نتیجہ تھا۔
سيادة الرئيس دونالد ترامب،
سؤال مباشر: من أعطاك القرار لزجّ منطقتنا في حرب مع #إيران؟ وعلى أي أساس اتخذت هذا القرار الخطير؟
هل حسبتَ الأضرار الجانبية قبل أن تضغط على الزناد؟ وهل فكّرت أن أول من سيتضرر من هذا التصعيد هي دول المنطقة!
من حق شعوب هذه المنطقة أن تسأل أيضاً: هل كان…
— Khalaf Ahmad Al Habtoor (@KhalafAlHabtoor) March 5, 2026
الحبتور نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات سب سے پہلے خطے کے ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے نہ تو اس جنگ کا انتخاب کیا اور نہ ہی وہ اسے اپنے خطے میں دیکھنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے عوام کو یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ کیا امریکا نے جنگ شروع کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے خلیج تعاون کونسل اور عرب ممالک کو ایسے خطرے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جسے انہوں نے منتخب نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کی جانب اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا۔
الحبتور نے اپنے خط میں امریکی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کی لاگت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ چند ہفتے جاری رہی تو اس کے اقتصادی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ الحبتور گروپ متحدہ عرب امارات کا ایک بڑا کاروباری گروپ ہے جو سیاحت، رئیل اسٹیٹ، آٹوموبائل، تعلیم اور اشاعتی شعبوں میں سرگرم ہے۔













