بھارتی فضائیہ کے سخوئی 30 ایم کے آئی طیارے کے حادثات میں انجن کی خرابی ممکنہ وجہ قرار دی گئی، تحقیقات جاری ہیں۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارتی فضائیہ کے جدید لڑاکا طیارے ‘سخوئی 30 ایم کے آئی’ کے حالیہ حادثے کے بعد انجن کی خرابی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آسام کے ضلع کاربی اینگلونگ میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس سے دو پائلٹ ہلاک ہو گئے۔
یہ طیارہ بھارتی فضائیہ کے جنگی بیڑے میں اہمیت کا حامل ہے اور اسے پہلی بار 1990 کی دہائی کے آخر میں فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، طیارہ پہلے روسی کمپنی سے درآمد کیا جاتا تھا مگر اب بھارت میں تیار ہوتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی نے کہا کہ حادثہ بھارتی فضائیہ کے لیے سنجیدہ معاملہ ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور چار سے پانچ ماہ میں رپورٹ متوقع ہے۔ 2009 سے اب تک کئی طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔
بھارت میں تیار ہونے والے انجنوں میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثات کی تعداد کم ہو کر 260 رہ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ حادثات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لاتی۔













