امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں قیادت کے خلا کو پورا کرنے کے لیے تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں قیادت کے خلا کو پورا کرنے کے لیے تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن ایژہ ای اور سینیئر مذہبی رہنما علی رضا اعرافی شامل ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ریاست نے ایسے حالات کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کونسل کی تشکیل سے ملک میں اتحاد پیدا ہوگا۔ تاہم، ایران کو فوجی قیادت کے نقصان کا سامنا بھی ہے۔
نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب مجلسِ خبرگان کرے گی، جو 88 مذہبی علما پر مشتمل ادارہ ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کا اجلاس ممکن نہیں۔ جانشینی کی دوڑ میں علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، علی رضا اعرافی، محمد مہدی میر باقری اور امام خمینی کے پوتے حسن خمینی شامل ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام پر حکومت کا تختہ الٹنے کا زور دیا ہے، مگر اب تک کوئی بڑی بغاوت نظر نہیں آتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی طاقت برقرار رہنے کا امکان ہے، جو ایران کی معیشت اور سیکیورٹی پر گہری گرفت رکھتا ہے۔












