بھارت میں کھانسی کے شربت سے 17 بچے ہلاک، کمپنی کا مالک گرفتار

بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے 17 بچے جاں بحق، دوا سازی کے نظام پر سوالات۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے 17 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں، جس کے بعد دوا سازی کے نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ تمل ناڈو کے حکام کا کہنا ہے کہ شربت میں شامل پروپیلین گلیکول ممکنہ طور پر صنعتی کیمیکل ڈائی ایتھیلین گلیکول سے آلودہ تھا۔ یہ کیمیکل عام طور پر صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور غلط استعمال کی صورت میں مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ سریسن فارما نے یہ کیمیکل سن رائز بایوٹیک کے ذریعے جنکشال اروما نامی سپلائر سے خریدا تھا۔ لیبارٹری تجزیات میں شربت میں صنعتی زہر کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد حکام اس کیمیکل کے شامل ہونے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

واقعے کے بعد سریسن فارما کا مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا اور کمپنی کے بانی جی رنگاناتھن کو گرفتار کر لیا گیا۔ مرکزی ڈرگ ریگولیٹر نے بچوں کے لیے بننے والے شربتوں کی اضافی نگرانی اور مزید انسپیکشنز کا فیصلہ کیا ہے۔

فیکٹری کے معائنے میں صفائی کے مسائل، ریکارڈ میں بے ضابطگیاں اور حفاظتی خلاف ورزیاں سامنے آئیں، تاہم ریگولیٹر نے انہیں ہلاکتوں کا براہ راست سبب قرار نہیں دیا۔ مزید یہ کہ پروپیلین گلیکول بغیر سیل کے دوبارہ پیک کر کے سپلائی کیا گیا تھا، جبکہ جنکشال اور سن رائز کے پاس فارماسیوٹیکل گریڈ اجزا فراہم کرنے کا لائسنس نہیں تھا۔

یہ واقعہ بھارت میں دوا سازی کے حفاظتی معیار، سپلائی چین کے کنٹرول اور ریگولیٹری نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں