واشنگٹن سپریم کورٹ نے ایمیزون کو خودکشی مقدمات کا سامنا کرنے کا حکم دیا ہے۔ 28 خاندانوں نے سوڈیم نائٹرائٹ کے استعمال کے بعد خودکشی کے الزام میں مقدمات دائر کیے ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ریاست واشنگٹن کی سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایمیزون کو ان مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا جو ان خاندانوں نے دائر کیے ہیں جن کے افراد نے آن لائن خریدے گئے سوڈیم نائٹرائٹ کے استعمال کے بعد خودکشی کی۔
عدالت کے 9 ججوں نے اپیلٹ عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ خودکشی موت کی بالادست وجہ ہے، اس لیے کمپنی پر غفلت کا مقدمہ نہیں چل سکتا۔ جسٹس جی ہیلن وائٹنر نے لکھا کہ ایمیزون پر صارفین کے لیے معقول احتیاط برتنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسے تیسرے فریق کے قابلِ پیش گوئی طرز عمل سے ہونے والے نقصان سے بچانا ہوگا۔
عدالت نے کہا کہ جیوری کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا کمپنی کی مبینہ غفلت کے نتیجے میں خودکشی کا امکان قابلِ پیش گوئی تھا یا نہیں۔ اب تک 28 خاندانوں نے مقدمات دائر کیے ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کو برسوں سے سوڈیم نائٹرائٹ اور خودکشی کے تعلق کا علم تھا، اس کے باوجود فروخت جاری رکھی گئی۔
متاثرہ خاندانوں نے ریاستی پروڈکٹ لائیبلٹی قانون کے تحت ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ زیر سماعت اپیلوں میں 4 خاندان شامل تھے جن کے 17 سے 27 سال عمر کے افراد نے 2020 اور 2021 میں 98 فیصد یا 99.6 فیصد خالص سوڈیم نائٹرائٹ استعمال کیا۔
ایمیزون نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صارفین کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق زیادہ خالص سوڈیم نائٹرائٹ براہِ راست استعمال کے لیے نہیں ہوتا اور اس کے غلط استعمال کا امکان موجود ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اب 10 فیصد سے زائد خالصیت والے سوڈیم نائٹرائٹ کی فروخت ممنوع ہے۔
واضح رہے کہ سوڈیم نائٹرائٹ ایک قانونی کیمیکل ہے جو خوراک کو محفوظ رکھنے، تحقیقی لیبارٹریوں اور زہریلے مادوں کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ مقدمات آن لائن پلیٹ فارمز کی ذمہ داری سے متعلق جاری قانونی مباحث کا حصہ ہیں۔













