تراویح کی بیس رکعات سنّت مؤکدہ ہیں، رسولِ اکرم ﷺ کا معمول تھا۔ صحابہ کرام نے بھی اس کو اختیار کیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) تراویح کی بیس رکعات کو سنّت مؤکدہ قرار دیا گیا ہے اور یہ رسولِ اکرم ﷺ کا معمول تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے رمضان میں بیس رکعت تراویح اور وتر بغیر جماعت کے ادا کیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس کو اختیار کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسجد نبوی میں باجماعت بیس رکعت تراویح کا اہتمام کیا گیا، جس پر صحابہ نے اتفاق کیا۔ یہ اتفاق نبی کریم ﷺ کی سنت کا ثبوت ہے۔
بیس رکعات تراویح کو چھوڑنا یا کم کرنا درست نہیں، البتہ عذر کی صورت میں کچھ رکعات رہ جائیں تو گناہ نہیں۔ سحری تک وقفے وقفے سے مکمل کی جا سکتی ہیں۔















