پاکستان میں اسلامی بینکاری نے 6 مکمل اسلامی بینکوں اور 16 روایتی بینکوں کی برانچز کے ساتھ تیزی سے ترقی کی ہے، جو ملکی بینکاری اثاثوں کا چوتھائی حصہ بن چکے ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں اسلامی بینکاری کا شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت ملک میں 6 مکمل اسلامی بینک اور 16 روایتی بینکوں کی اسلامی برانچ نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔ اسلامی بینکاری ملکی بینکاری اثاثوں کا تقریباً چوتھائی حصہ بن چکی ہے اور روایتی بینکاری کے مقابلے میں زیادہ رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
اسلامی بینکاری کا آغاز 1985 میں اس وقت ہوا جب صدر جنرل ضیاء الحق نے سود سے پاک نظام متعارف کرانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے مذہبی اور تکنیکی کمیٹیاں قائم کی گئیں جنہوں نے اسلامی اصولوں کو شامل کرنے کے طریقے تجویز کیے۔
اسلامی بینکوں کی منافع بخش کارکردگی بھی نمایاں ہے۔ میزن بینک نے 2024 میں 101 ارب روپے منافع کمایا جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ نے اسی سال 59 ارب روپے منافع حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق اسلامی بینکوں کی فنڈنگ کی لاگت کم رہتی ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹس پر سود ادا نہیں کیا جاتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سود کو منافع قرار دینے پر بحث جاری ہے اور شرعی بورڈز کی مصنوعات پر رائے دینے کے باوجود نظام کی شفافیت اور حقیقی اسلامی حیثیت پر مختلف آراء موجود ہیں۔














