نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ نظام متعارف کر دیا ہے، جس سے اضافی بجلی کی قیمت کم ہو گئی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ نظام متعارف کر دیا ہے جس کا اطلاق موجودہ اور نئے تمام سولر صارفین پر ہوگا۔ اس نئے نظام کے تحت یونٹ کے بدلے یونٹ بجلی کے تبادلے کا طریقہ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اضافی بجلی کی خریداری کی قیمت نمایاں طور پر کم کر دی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق اضافی بجلی کی قیمت تقریباً 11 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے جو پہلے 26 روپے تھی، جبکہ صارفین کو گرڈ سے لی گئی بجلی کے لیے 37 سے 55 روپے فی یونٹ ادا کرنا ہوں گے، ٹیکس اور سرچارجز اس کے علاوہ ہوں گے۔ موجودہ 7 سالہ معاہدے برقرار رہیں گے تاہم فوری طور پر نیٹ بلنگ پر منتقل کر دیے جائیں گے اور ایکسپورٹ کریڈٹ کی مدت 3 ماہ سے کم کر کے 1 ماہ کر دی گئی ہے۔ نئے درخواست گزاروں کو 5 سال کے معاہدے دیے جائیں گے۔
صلاحیت کی حد بھی کم کر دی گئی ہے اور صارفین کو منظور شدہ لوڈ سے زیادہ سولر نظام نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے عملی طور پر صلاحیت میں تقریباً 50 فیصد کمی آئے گی۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد گرڈ کے استحکام کو یقینی بنانا اور مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
ملک میں تقسیم شدہ سولر پیداوار 20000 سے 22000 میگاواٹ کے درمیان ہے، جس میں سے 6000 سے 7000 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ کے تحت ہے۔ تقریباً 456000 صارفین نیٹ میٹرنگ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد منصفانہ قیمتوں کا تعین ہے اور اس سے عام صارف کو فائدہ ہوگا۔
بعض سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑ سکتا ہے اور سولر ترقی کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بجلی کے شعبے کے مسائل ساختی نوعیت کے ہیں جن میں استعداد ادائیگیاں، طویل مدتی معاہدے اور بلند نرخ شامل ہیں، جن کا حل بنیادی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔














