قومی ٹاسک فورس نے آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کے بعد ٹیموں کے لیے انعامات کی سفارش کی ہے، جس سے 4000 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
قومی ٹاسک فورس برائے توانائی نے آئی پی پیز اور سرکاری بجلی گھروں کے معاہدوں پر نظرثانی کے بعد کارکردگی بنیاد انعامات کی سفارش کی ہے۔ ٹاسک فورس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال کر رہے ہیں۔
حکومت نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، مشیر نجکاری محمد علی اور سیکرٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخر عالم عرفان کے لیے انعامات کا اعلان کیا ہے۔ پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے حکام کو مالی مراعات دی گئی ہیں۔
ٹاسک فورس نے 6 آئی پی پیز کے معاہدے ختم کیے اور متعدد منصوبوں کے ٹیرف پر نظرثانی کی۔ ان اقدامات سے منصوبوں کی بقیہ مدت میں 4000 ارب روپے تک بچت ہوگی۔ 12 تھرمل آئی پی پیز کے ساتھ ثالثی ایوارڈز کے تصفیے میں 30 ارب روپے کی اضافی وصولی بھی شامل ہے۔
حکام نے 1.225 کھرب روپے کے سرکلر ڈیٹ فنانسنگ منصوبے پر عمل درآمد کیا۔ یہ رقم بینکوں سے حاصل کی گئی اور 6 برسوں میں 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے صارفین سے وصول کی جائے گی۔
ٹاسک فورس کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے بجلی صارفین کو مالی فائدہ ہوگا اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی پائیداری میں بہتری آئے گی۔ سی پی پی اے جی کی ٹیم کے لیے بھی مالی مراعات کی تجویز زیر غور ہے۔














