بنگلہ دیشی عام انتخابات میں بی این پی ابتدائی برتری کے ساتھ آگے ہے جبکہ جماعتِ اسلامی بڑی اپوزیشن کے طور پر ابھری ہے۔
ڈھاکہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے غیرسرکاری اور غیر حتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) 102 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ جماعتِ اسلامی نے 55 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر 300 نشستیں ہیں اور 299 نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوا۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، آزاد امیدواروں نے 3 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی نے 3 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اسلامی اندولن بنگلہ دیش 2 اور بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی اور گونو ادھیکار پریشد نے بھی ایک، ایک نشست حاصل کی ہے۔
ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور بی این پی کو برتری حاصل ہے۔ جماعتِ اسلامی بڑی اپوزیشن کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ انتخابات جولائی 2024 کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 60 فیصد رہا، جو 2024 کے انتخابات میں ریکارڈ کیے گئے 41.8 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ کمیشن کے مطابق پولنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی اور 9 گھنٹے تک جاری رہی۔ ووٹرز نے 42,659 پولنگ اسٹیشنز پر پارلیمانی انتخاب اور ریفرنڈم کے لیے علیحدہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹ ڈالے۔
سکیورٹی کے لئے فوج، بارڈر گارڈ اور پولیس سمیت تقریباً 10 لاکھ اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین نے کہا کہ پولنگ آزاد اور منصفانہ انداز میں ہوئی۔
یہ تمام نتائج غیرسرکاری ہیں اور حتمی نتائج بنگلہ دیش الیکشن کمیشن جاری کرے گا، جس کے بعد حکومت سازی کی صورتحال واضح ہوگی۔













