آصف زرداری نے آزاد کشمیر میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی کا اجلاس طلب کیا، پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت کا دعویٰ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس ایوانِ صدر میں ہوگا، جس میں صدر ریاست کے امیدوار کے نام پر مشاورت کی جائے گی۔
یہ عہدہ بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا اور موجودہ وقت میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس سادہ اکثریت ہے اور وہ اپنا صدر منتخب کرا سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق صدر کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، جو 27 ووٹ بنتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس یہ تعداد موجود ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے اکثریتی دعوے کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس ایوان میں سادہ اکثریت نہیں اور مسلم لیگ ن صدارتی انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی شاید نئے صدر کا انتخاب نہ کرے اور یہ معاملہ آئندہ اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے۔
صدارتی عہدے کے لیے پیپلز پارٹی کے اندر اور باہر کئی امیدوار ہیں۔ سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور دیگر بھی لابنگ کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے حال ہی میں آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت بنائی ہے۔
مسلم لیگ ن کے راجا فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے اکثریتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں بھرپور حصہ لیں گے اور ممکن ہے کہ یہ معاملہ آئندہ اسمبلی تک چلا جائے۔















